شیشہ
Poet: Asad By: Asad, mpk تمہیں دل کے شیشے مین اپنے ڈال رکھیں گے
ھم اپنی جان سے زیادہ تمھارا خیال رکھیں گے
کرے گا مدتوں زمانہ یاد اپنی الفت ۔کو
ھم پیار میں ایسی قائم کر مثال رکھیں گے
کوئی بزم نہیں ایسی جھان تیرا نہ ھو چرچہ
ھم بھی پاس اپنے جانا زکر تیرا سنبھال رکھیں گے
ھم تیرے پیار مین یون حد سے گزر جائیں گے
کے تیری یاد مین خود کا جینا کر محال رکھیں گے
دیر سے آنا سہی تیرا چلو اسد نصیب تھا اپنا
تمام عمر نہ بھولو گے وہ کر استقبال رکھیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






