ادا ہر اک دلیلِ بے مثالی ہے

Poet: صفدر By: رانا علی, Lahore

ادا ہر اک دلیلِ بے مثالی ہے
وہ کتنا شوخ سا اورلا اُبالی ہے

تری چنچل نگاہِ شوق نے اکثر
مرے دل میں جگہ ہردم بنالی ہے

گُھلا ہے رنگ جوگُلشن کے پھولوں میں
مرے محبوب کے چہرے کی لالی ہے

چمن مہکے، کلی چٹکے،صبا بہکے
وصالِ یار کی ساعت نرالی ہے

غموں سے زندگی کے ڈر رہے ہوتم
ارے اٹھو بڑھو، اللہ والی ہے

شہر میں ہرطرف ہے خوف کا عالَم
عدو نے امن کی دولت چرالی ہے

ہے رقصاں بنتِ حوّا برسرِ محفل
یہ کیسی بدنُما روشن خیالی ہے

جہاں سے مانگ کر بھی کیاملا ہمکو
ہمارے خُم کودیکھو پھربھی خالی ہے

بتا دے کوئی آکر مجھکو یہ صفدر
غموں سے کس طرح دل کی بحالی ہے

Rate it:
Views: 461
16 Aug, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL