غمِ اُلفت میں اشکوں کوبرسنے دو

Poet: صفدر By: صفدر مہران, Lahore

غمِ اُلفت میں اشکوں کوبرسنے دو
ہماری آنکھ کے ساغرچھلکنے دو

نہیں حاجت خِرد تک رہنمائی کی
مجھے شہرِتمنّامیں بھٹکنے دو

میں سوزِعشق کی دولت پہ نازاں ہوں
مری دولت مرے ہی پاس رہنے دو

ہمارادم لبوں پرہے مگرواں سے
پیام آیا"ہمیں تھوڑاسنورنے دو"

سناہے عشق ہے اک آگ کادریا
مجھے ہرموج کے اندراترنے دو

ہوامیں ریشمی آنچل کولہراکر
جہانِ دل کے بام ودَرمہکنے دو

بجھادوآگ نفرت کی اے انسانو
جہاں میں پیارکے غنچے چٹکنے دو

بڑا پُرلُطف اسکی دیدکامنظر
دیارِ یارمیں کچھ دیررہنے دو

رُخِ روشن سے زلفوں کی گھٹاؤں کو
ہٹاکرصبح کاسورج چمکنے دو

چمکتے موتیوں کی مثل لگتی ہے
گلابی پتیوں پہ اوس پڑنے دو

چراغِ آگہی روشن کرو صفدر
ہمیں اس قیدِ ظلمت سے نکلنے دو

Rate it:
Views: 413
16 Aug, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL