غمِ اُلفت میں اشکوں کوبرسنے دو
Poet: صفدر By: صفدر مہران, Lahoreغمِ اُلفت میں اشکوں کوبرسنے دو
ہماری آنکھ کے ساغرچھلکنے دو
نہیں حاجت خِرد تک رہنمائی کی
مجھے شہرِتمنّامیں بھٹکنے دو
میں سوزِعشق کی دولت پہ نازاں ہوں
مری دولت مرے ہی پاس رہنے دو
ہمارادم لبوں پرہے مگرواں سے
پیام آیا"ہمیں تھوڑاسنورنے دو"
سناہے عشق ہے اک آگ کادریا
مجھے ہرموج کے اندراترنے دو
ہوامیں ریشمی آنچل کولہراکر
جہانِ دل کے بام ودَرمہکنے دو
بجھادوآگ نفرت کی اے انسانو
جہاں میں پیارکے غنچے چٹکنے دو
بڑا پُرلُطف اسکی دیدکامنظر
دیارِ یارمیں کچھ دیررہنے دو
رُخِ روشن سے زلفوں کی گھٹاؤں کو
ہٹاکرصبح کاسورج چمکنے دو
چمکتے موتیوں کی مثل لگتی ہے
گلابی پتیوں پہ اوس پڑنے دو
چراغِ آگہی روشن کرو صفدر
ہمیں اس قیدِ ظلمت سے نکلنے دو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






