اداس دل ہے بہت تم جو میرے پاس نہیں
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistan۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اداس دل ہے بہت تم جو میرے پاس نہیں
تمھارے بن تو مجھے زندگی بھی راس نہیں
وہ چاندنی میں نہائی ہوئی جواں راتیں
رہیں نہ پہلی سی اپنی حسیں ملاقاتیں
ملن کی کوئی بھی صورت،کوئی بھی آس نہیں
اداس دل ہے بہت تم جو میرے پاس نہیں
نہ دن گزرتا ہے اب نہ ہی رات کٹتی ہے
تمھاری یادوں کی ہر پل گھٹا برستی ہے
یہ روح پیاسی ہے ظاہر لبوں سے پیاس نہیں
اداس دل ہے بہت تم جو میرے پاس نہیں
تمھارے بن تو مجھے زندگی بھی راس نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھاری ہو نہ سکی تم سے آج ہے دوری
بتاؤں کیسے تمھیں کیا ہے میری مجبوری
نہ کہنا اے میرے ہمدم کہ میں اداس نہیں
تمھارے بن تو مجھے زندگی بھی راس نہیں
رہے گی میرے لیے زندگی شب ویراں
جدا ہوں تم سے تو دل میں نہیں کوئی ارماں
غموں کی رات ہے دل کو سحر کی آس نہیں
تمھارے بن تو مجھے زندگی بھی راس نہیں
اداس دل ہے بہت تم جو میرے پاس نہیں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






