اداس شام کے گیسو سنورنے لگتے ہیں

Poet: Dr. Khurshid Ahmed Bazmi By: Dr. Khurshid Ahmed Bazmi, England

حدیثِ یار بیاں ہم جو کرنے لگتے ہیں
اداس شام کے گیسو سنورنے لگتے ہیں

جہانِ فکر میں امکان ڈھونڈتے اکثر
سخن کے نت نئے پہلو ابھرنے لگتے ہیں

تمھارے قُرب کی حدت سے مثلِ قوسِ قزح
مرے مزاج کے موسم بدلنے لگتے ہیں

اسے ہنر کہو یا شعبدہ حسینوں کا
خیال بن کے یہ دل میں اترنے لگتے ہیں

ہم ایک دل نہ ترا موم کر سکے ، ورنہ
ہماری دید سے پتھر پگھلنےلگتے ہیں

کھلیں ہوں کھڑکیاں گھر کی سجے ہوں پھول جہاں
وہاں سے منچلے بھنورے گزرنے لگتے ہیں

سوال کرنے سے بچوں کو روک کر اکثر
ہم ان کی سوچ کے خود پر کترنے لگتے ہیں

یہ انتہائے محبت ہے یا کہ پاگل پن
ہنسیں بھی اب تو آنسو نکلنے لگتے ہیں

ملے ہیں اُن سے ، بہت ہی عزیز ہیں ہم کو
کرید لیتے ہیں جب زخم بھرنے لگتے ہیں

غمِ جہاں کے عذابوں کو جھیلتے خورشید
مرے وجود کے بخیے ادھڑنے لگتے ہیں

 

Rate it:
Views: 577
22 Jun, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL