اداس شام کے گیسو سنورنے لگتے ہیں
Poet: Dr. Khurshid Ahmed Bazmi By: Dr. Khurshid Ahmed Bazmi, Englandحدیثِ یار بیاں ہم جو کرنے لگتے ہیں
اداس شام کے گیسو سنورنے لگتے ہیں
جہانِ فکر میں امکان ڈھونڈتے اکثر
سخن کے نت نئے پہلو ابھرنے لگتے ہیں
تمھارے قُرب کی حدت سے مثلِ قوسِ قزح
مرے مزاج کے موسم بدلنے لگتے ہیں
اسے ہنر کہو یا شعبدہ حسینوں کا
خیال بن کے یہ دل میں اترنے لگتے ہیں
ہم ایک دل نہ ترا موم کر سکے ، ورنہ
ہماری دید سے پتھر پگھلنےلگتے ہیں
کھلیں ہوں کھڑکیاں گھر کی سجے ہوں پھول جہاں
وہاں سے منچلے بھنورے گزرنے لگتے ہیں
سوال کرنے سے بچوں کو روک کر اکثر
ہم ان کی سوچ کے خود پر کترنے لگتے ہیں
یہ انتہائے محبت ہے یا کہ پاگل پن
ہنسیں بھی اب تو آنسو نکلنے لگتے ہیں
ملے ہیں اُن سے ، بہت ہی عزیز ہیں ہم کو
کرید لیتے ہیں جب زخم بھرنے لگتے ہیں
غمِ جہاں کے عذابوں کو جھیلتے خورشید
مرے وجود کے بخیے ادھڑنے لگتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







