اداس شام ہے تنہائیوں کی محفل ہے (دوگانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanلڑکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اداس شام ہے تنہائیوں کی محفل ہے
کسی کی یاد میں پھر بے قرار یہ دل ہے
گماں نہیں تھا بچھڑ جائیں گے یوں ہم مل کر
خبر نہ تھی کہ بکھر جائیں گے یہ گل کھل کر
نہ راستہ ہے کوئی اور نہ ہی منزل ہے
کسی کی یاد میں پھر بے قرار یہ دل ہے
لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اداس شام ہے تنہائیوں کی محفل ہے
تمھاری یاد میں پھر بے قرار یہ دل ہے
ملن کے دن ہیں نہ اب وصل کی وہ راتیں ہیں
تمھاری یاد ہے ، بیتی تمھاری باتیں ہیں
غموں کے لاکھ ہیں طوفاں کہیں نہ ساحل ہے
تمھاری یاد میں پھر بے قرار یہ دل ہے
لڑکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اداس شام ہے تنہائیوں کی محفل ہے
کسی کی یاد میں پھر بے قرار یہ دل ہے
لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اداس شام ہے تنہائیوں کی محفل ہے
تمھاری یاد میں پھر بے قرار یہ دل ہے
نوٹ:۔۔۔۔۔۔۔۔وادیء کاغان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک اداس شام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درخت
کے نیچےتنہا بیٹھے بیٹھے یہ نغمہ ذہن میں گردش کرنے لگا جسے
اپنے موبائل میں اینٹر کر لیا اور پھر اس کی نوک پلک سنوار
کر پیارے دوستوں اور معزز قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔۔امید ہے آپ
سب کو پسند آئے گا۔شکریہ
زاہد
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






