مجھ میں ادائیں رقص کرتی ہیں

Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbd

تجھے لاکھ بھلانا
چاہوں لیکن بھلا نہیں سکتی
تیرے ساتھ گذری محبتیں
رقص کرتی ہیں
کیسے اپنی آنکھوں سے
اشکوں کو ختم
کردوں تیرے لوٹ
آنے کی صدائیں رقص
کرتی ہیں
میں تنہائیوں کے
اندھیروں کو لوٹ تو
جاؤں گی
میری ہتھیلی پہ ھمشہ
تیری دعائیں ر قص
کرتی ہیں
میں تو وفا پہ مٹ جاؤں
گی تجھ سے نا
کروں گی مطالبہ وفا کا
جب بھی مانگی وفا
ہر دفعہ تیری جفائیں
ر قص کرتی ہیں
اسے کہہ دو میں
نا کر سکوں گی ہمسفر
سے محبت کہ
میری زندگی میں
محبت کی سزائیں رقص کرتی ہیں
خوشبو اس کے سخت
حصار کی اب
تک مہک رہی ہے
کہ میں اک نازک پھول
تھی اور مجھ
میں ادائیں رقص کرتی
ہیں

Rate it:
Views: 657
30 May, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL