مجھ میں ادائیں رقص کرتی ہیں
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbdتجھے لاکھ بھلانا
چاہوں لیکن بھلا نہیں سکتی
تیرے ساتھ گذری محبتیں
رقص کرتی ہیں
کیسے اپنی آنکھوں سے
اشکوں کو ختم
کردوں تیرے لوٹ
آنے کی صدائیں رقص
کرتی ہیں
میں تنہائیوں کے
اندھیروں کو لوٹ تو
جاؤں گی
میری ہتھیلی پہ ھمشہ
تیری دعائیں ر قص
کرتی ہیں
میں تو وفا پہ مٹ جاؤں
گی تجھ سے نا
کروں گی مطالبہ وفا کا
جب بھی مانگی وفا
ہر دفعہ تیری جفائیں
ر قص کرتی ہیں
اسے کہہ دو میں
نا کر سکوں گی ہمسفر
سے محبت کہ
میری زندگی میں
محبت کی سزائیں رقص کرتی ہیں
خوشبو اس کے سخت
حصار کی اب
تک مہک رہی ہے
کہ میں اک نازک پھول
تھی اور مجھ
میں ادائیں رقص کرتی
ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






