ادھر دیکھتے ہیں ادھر دیکھتے ہیں
کہ ہم نظمِ شام و صحر دیکھتے ہیں
انھیں دیکھتے ہیں قریب اپنے جب ہم
دعاؤں کا اپنی اثر دیکھتے ہیں
رواں ہیں کسی کی محبت میں آنسو
کہ دامن میں لعل و گہر دیکھتے ہیں
خیالوں میں تم بس گئے ہو کچھ ایسے
تمہیں تم ہو بس ہم جدھر دیکھتے ہیں
کھلونا بنایا ہے دنیا نے ہم کو
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں"
زما نے کی نظریں نہ لگ جائیں ہم کو
جو امیدیں کا ہم نگر دیکھتے ہیں
اسے دیکھ کر ماند لگتے ہیں ہم کو
کہ جب سوئے شمس و قمر دیکھتے ہیں
جدا اے وشمہ جب وہ ہوتا ہے تجھ سے
ترا رونا شام و سحر دیکھتے ہیں