اس زمیں پر کوئی رسائی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااس زمیں پر کوئی رسائی ہے
میرے ہمدم تو اب جدائی ہے
چشمِ افلاک دیکھتی ہے مجھے
نام تیرا ہی اب دبائی ہے
تیری یادیں ہی میرا مسکن ہیں
تیری خواہش ہی اک سمائی ہے
ڈوب جائے نہ یاد کا منظر
ایک تو ہی تو اب رسائی ہے
پہلے ویسے ہی تم پہ مرتی تھی
جوش و جزبہ تو اب دہائی ہے
تیری خواہش میں گر گئی ہوں یہاں
کیا کرے گا یہ اب برائی ہے
میرے دل کو وہ کر گیا گھائل
تیر یادوں کا جوشنائی ہے
میں جو نکلی چمن سے تب دیکھا
تری ہر طرف ہی جدائی ہے
موت آئے گی اب مجھے وشمہ
روح قبروں کی بھی سجائی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






