زندگی بے وفا ہے مان بھی لے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکیوں محبت سے دل لگائی ہے
خود کو کیوں رات دن جلائی ہے
زندگی بے وفا ہے مان بھی لے
یہ تو انساں کو آزمائی ہے
روح اور جسم کی تمازت میں
زندگی رنج وغم اٹھائی ہے
سرفروشی کی داستانوں میں
زندگی زندگی کو کھائی ہے
اس نے وعدہ کیا تھا آنے کا
آج بھی انتظار آئی ہے
عاشقوں کی عجب ہے بزم جہاں
خود سے مایوس ہوں جدائی ہے
مجھ کو رونا تھا حال دل پہ مگر
میری قسمت پہ دل دہائی ہے
ایسی باتوں کو راز وہ ہی رکھیں
حسرتیں راکھ ہو برائی ہے
رحمتوں پر یقین ہےمیرا
دل کو میرے قرار پائی ہے
قلب وشمہ کی بے سبب دھڑکن
رات دن ہی اسے ستائی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






