نظم وشمہ نے جو کہی ہے ابھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiنظم وشمہ نے جو کہی ہے ابھی
باغ اردو میں اک کلی ہے ابھی
ذکر رہتا ہے جن کا شعروں میں
تیرے ہونٹوں کی تازگی ہے ابھی
چاند نکلا تو میں بھی نکلوں گئ
شام یادوں کی اک ڈھلی ہے ابھی
رنگ پکنے میں دیر لگتی ہے
اپنی چاہت تو موسمی ہے ابھی
مجھ کو غیروں کے ساتھ رہنا ہے
اپنے لشکر سے دشمنی ہے ابھی
زندگانی ہے درد کا محور
آزمائش میں دوستی ہے ابھی
عشق اترے گا ایک دن وشمہ
ان نگاہوں میں سادگی ہے ابھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






