اس سحر کی گزر تک
Poet: Santosh Kumar Gomani By: Santosh Kumar Gomani, Tharparkar @ Mithiاس سحر کی گزر تک ہوائیں الگ ہو جاتی ہیں
درد دل میں رکھیں تو پناہیں الگ ہو جاتی ہیں
کیوں ڈرتے ہو کانٹوں بھری زندگی سے
یوں پاؤں بچانے تک راہیں الگ ہو جاتی ہیں
اک سپنا کروٹوں کو خوب سہارا دیتا ہے
مگر آنکھ کھولنے تک بانہیں الگ ہو جاتی ہیں
قتل تو نگاہ بھی کرلیتی ہے تلوار کی طرح لیکن
دونوں جرموں کی سزائیں الگ ہو جاتی ہیں
کبھی افضل نظاروں کو اپنے حریص نہ رکھو
عکس کو تکنے تک نگاہیں الگ ہو جاتی ہیں
زمانے کے مزاج نے گھُٹ کر جینا سکھا دیا
اپنا درد چلانے سے آہیں الگ ہو جاتی ہیں
عمر بھر انسان اوروں کی نفس کشی رہا سنتوش
خود کو سمجھنے تک سانسیں الگ ہو جاتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






