بڑی حسرتیں بھر گئی دل میں
Poet: Santosh Kumar Gomani By: Santosh Kumar Gomani, Tharparkar @ Mithiبڑی حسرتیں بھر گئی دل میں لمحات کے اس پار چلیں
آؤ بھی اک بار کہ جذبات کے اس پار چلیں
دھڑکنوں کے گرد اور بھی جگہ خالی ہے رہنے کو
مجھ میں سما جاؤ تو مات کے اس پار چلیں
یہ چاند تو ہر شب میری رمزیں دیکھتا ہے
تم آہیں چرالو کہ رات کے اس پار چلیں
باتوں باتوں میں تو پھر کئی باتیں نکلیں گی
اب بات یہ ہے کہ بات کے اس پار چلیں
الجھ کر زندگی نے کہاں سنورنے کو سوچا
اس کشمکش سے نکلو کہ کائنات کے اس پار چلیں
دامن جنبش کو اب سمیٹ بھی لو سنتوش
تھوڑی سانسیں روک کر اضطراب کے اس پار چلیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






