اس سے زیادہ کی نہ خواھش ھے نہ ارمان کوئی

Poet: سید نذیر کاظمی By: سید نذیر کاظمی, Al Ain

دھیرے دھیرے سے برستی ھوئ بارش میں کبھی
میں نے دیکھا تھا تجھے تیرے رو برو ھو کر
تو بھی لب بھینچ کے، آنکھوں کے کناروں سے مجھے
دیکھتی تھی کئ ارمان جگا کر دل میں
تیری زلفوں میں پروئے ھوئے ناگینہِ آب
کتنے بیباک ھوئے جاتے تھے چھو کر تجھ کو
جل میں اس آگ کے منظر کو بیاں کیسے کروں
لب پہ ٹھہرے ھوئے قطرے یا بھڑکتے شعلے
شربتی شام کے رنگوں سے مزین آنکھیں
جا بجا جن میں سجے خواب میرے نام کے تھے
تیری بکھری ھوئی سوچیں، تیری زلفیں، تیرا آنچل
تانے بانے کے سرے مجھ سے ھی جا ملتے تھے
اس سے بڑھ کر بھی کوئی ھو گی نہ انمول گھڑی
اس سے زیادہ کی نہ خواھش ھے نہ ارمان کوئی
ہاتھ اٹھتے ھیں تو سوچ میں پڑ جاتا ھوں
میں تجھے مانگوں یا تعبیریں تیرے خوابوں کی

Rate it:
Views: 623
20 Jan, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL