اس سے کہنا
Poet: Perveen Shakir By: M.Z, karachiوہ شخص کبھی دشت سے گزرے تو اس سے کہنا
اک پل میرے گھر میں بھی ٹھرے اس سے کہنا
کہنا کہ سمندر کے کنارے پہ نہ جائے
کچھ لوگ سمندر سے بھی ہیں گہرے اس سے کہنا
زرخیز زمین کبھی بنجر نھیں ہوتی
دریا ہی بدل لیتے ہیں رستے اس سے کہنا
کچھ لوگ سفر کے لیے ہوتے نہیں موضوع
کچھ رستے کٹتے نہیں تنہا اس سے کہنا
اس شہر میں سچ کہہ کر گناہ گار نہ ہونا
کہ بستی کے سبھی لوگ ہیں بھرے اس سے کہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






