اقرار کی صورت میں کہیں انکار کی صورت میں
Poet: ISHTIAQ KAZMI By: WAQAS SHAH, RAWALPINDIاقرار کی صورت میں کہیں انکار کی صورت میں
ہم پیتے رہے یارو میخار کی صورت میں
الفت کے نشے میں فقط یہی ہوش ہے قائم اپنا
تمہی آ کے سنبھا لو گے ہمیں اغیار کی صورت میں
میرے پاس اگر تم اور تھوڑی دیر ٹھہر جاتے
یہ حشر بھی رک جاتا انتظار کی صورت میں
اس عشق نے ہمیں کتنے آداب سکھا ڈالے
ہم جھکتے گئے یار پیروکار کی صورت میں
اک بار مجھے تم نے کبھی دل سے پکارا تھا
وہ آتی ہے صدا اب بھی بہار کی صورت میں
ہوئی ہم سے خطا اتنی اسے اپنا سمجھ بیٹھے
اشتیاق تمہیں دوست ملا کیسا تختہ دار کی صورت میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






