اس نے کہا یہ وصل کیا
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadاس نے کہا یہ وصل کیا
میں نے کہا ہے زندگی
اس نے کہا یہ زندگی
میں نے کہا پھولوں بھری
اس نے کہا یہ پیار کیا
میں نے کہا دیوانگی
اس نے کہا آرزو
میں نے کہا بے بسی
اس نے کہا خواب کیا
میںنے کہا ہیں بےخودی
اس نے کہا یہ حسن کیا
میں نے کہا ہے چاندنی
اس نے کہا یہ عشق کیا
میں نے کہا ہے بے رخی
اس نے کہا چہرہ میرا
میں نے کہا جادو گری
اس نے کہا مرو گے کیا
میں نے کہا ہنسی خوشی
اس نے کہا پاگل ہو کیا
میں نے کہا یونہی سہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






