وہ سدا مسکراتی رہے
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMجس کی ہر ادا سب سے پیاری ہے
اس سے بات کرنے کی آرزو ہماری ہے
وہ سدا اسی طرح مسکراتی رہے
اس کے لیے یہی دعا ہماری ہے
ہم ہر کسی سے مسکرا کے ملتے ہیں
سدا خوش رہنا عادت ہماری ہے
وہ اس جہاں کی مخلوق ہو نہیں سکتی
لگتا ہے خدا نے حور آسمان سے اتاری ہے
تیرے ہجر میں میرا جو سمے بیتا
لگتا ہے کانٹوں پہ اک عمر گزاری ہے
حسن پہ اتنا غرور اچھا نہیں ہوتا
یہ تو وہ شے ہے جو ادھاری ہے
میں تو کب کا حوصلہ ہار چکا تھا
تیرے پیار نے اصغر کی زندگی سنواری ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







