اس کے الفاظ وہ اس کے لہجے کا سراب

Poet: Faisal Yaqoob Arab By: Faisal Yaqoob Arab, Karachi
Is Ke Alfaaz Woh Is Ke Lehjey Ka Saraab

اس کے الفاظ وہ اس کے لہجے کا سراب
جینے نہیں دیتے جاگتی آنکھوں کے خواب

الفاظ کے جیسے دھیمی برسات کی جھلمل
وہ لہجہ کے مانند رنگ و بوئے گلاب

اپنے الفاظ سے میری سماعتوں کو دوام دے
گرچہ دہن کا گلاب ہو یا لہجہ کا عتاب

حسن و جوانی پہ بہت نازاں ہیں اپنی ماہ و آفتاب
گہن لگ جائے جب مگر کہاں رہتی ہے آب و تاب

جیتا ہوں تو مرتا ہوں مرتا ہوں تو جیتا ہوں
جانے کس موڑ پہ لایا ہے زندگی کا باب

سانس بھی آتی ہے مگر جاتا ہے حوصلہ
جیسے قضا کیلئے تڑپتا ہے ماہی بے آب

بے درد زمانے نے رسوا ہے بہت کیا
سنگ برسائے بے حد گھائل کیا بے حساب

غم دوراں سے اب تو نڈھال ہو گیا ہوں
ماند پڑ گیا ہے میرا حسن و شباب

اے خدا اپنے عرفان کا پردہ اٹھا دے اب تو
میں تیرا بندہ ہوں پھر کیوں رہے یہ حجاب

 

Rate it:
Views: 3065
22 Nov, 2007
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL