اس کے چہرے سے ہزیمت کا گماں ہوتا ہے

Poet: امید خواجہ By: امید خواجہ , 1e Exloermond

اس کے چہرے سے ہزیمت کا گماں ہوتا ہے
ہونٹ خاموش ہیں پر درد بیاں ہوتا ہے

میرے دشمن نے جلائے ہیں کہیں گھی کے چراغ
میری بربادی پہ وہ رقص کناں ہوتا ہے

حُسن کو عشق سے مِنجملہ تقابل کی ہے ضِد
آئیے سب دیکھیں وہاں کس کا زیاں ہوتا ہے

سامنے میرے کوئی تُم کو بُرا کہتا ہے جب
مجھ پہ وہ لمحہ بڑا بارِ گراں ہوتا ہے

اتنی غربت ہے مرے دیس میں اے اہلِ ہوس
آٹھ دس سال کا ہر بچّہ جواں ہوتا ہے

کاش کہہ دیتا وہ مجھ سے بھی ابھی نا جاؤ
تجھ سا سنگ دِل بھی زمانے میں کہاں ہوتا ہے

ہنسنا ہر وقت کا تجھ کو نہ بھسم کر ڈالے
آگ لگتی ہے تو ہر سمت دھواں ہوتا ہے

کوئی سنّاٹے سا سنّاٹا ہے بستی میں امید
اب تو شہروں پہ بھی قبروں کا گماں ہوتا ہے
 

Rate it:
Views: 134
18 Apr, 2025
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL