اس کے کوچے کے کہاں تک کوئی چکر کاٹے

Poet: Allama Pir Syed Naseer ud Din Naseer Gillani By: Khalid Roomi, Rawalpindi

 اس کے کوچے کے کہاں تک کوئی چکر کاٹے
اب سبک دوش کرے یوں ، کہ مرا سر کاٹے

صبح آلام ، شب غم، کوئی کیوں کر کاٹے
دن مصیبت کے کہاں تک دل مضطر کاٹے

بے ستوں سے یہ ابھرتی ہے صدائے شیریں
کوئی فرہاد بنے، تیشے سے پتھر کاٹے

اس سے پوچھے کوئی ایام اسیری کا عذاب
زندگی اپنی جو صیاد کے گھر پر کاٹے

نہ ملا تو، نہ ملاقات کی صورت نکلی
مدتوں ہم نے ترے شہر کے چکر کاٹے

زلف وہ سانپ، کہ لوٹے ہے ترے قدموں پر
غیر کے شانے پہ بکھرے تو برابر کاٹے

موت اچھی کہ پس مرگ سکوں ملتا ہے
زندگی کون شب و راز تڑپ کر کاٹے

ایسے وحشی کا اگر ہو تو ٹھکانا کیا ہو
دشت میں جس کو نہ چین آئے، جسے گھر کاٹے

ساقی کوثر و تسنیم سے نسبت ہے نصیر
کیوں نہ دنیا مرے میخانے کے چکر کاٹے

Rate it:
Views: 593
28 Jan, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL