اس کے ہوتے ہوئے بھلا کوئی ذیاں ہوتا ہے
Poet: Huma khan By: humaira mughal, bhakkarاے دل میرے کاہے کو پریثاں ہوتا ہے
اُس کے ہوتے ہوئے بھلا کوئی ذیاں ہوتا ہے
سنا ہے ہو دل کے قریب تر جو بھی
دور رہ کے بھی پاس اس کا گماں ہوتا ہے
کیا بات چھیڑ دی تو نے غریب کے گھر کی
زمیں کا فرش چھت آسماں ہوتا ہے
اپنے گھر میں تو فقیر کی بھی ہو شاہی
پردیس میں تو شاہ بھی بے اماں ہوتا ہے
عشق کو کب چاہئے کہیں کوئی بام و در
دل کا یہ مکیں دل اس کا مکاں ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






