اسے لگتا ہے شاید یوں،
Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohatاسے لگتا ہے شاید یوں
کہ ہر اک بات اسکی ہے
چمکتا دن اسی کے دم
اندھیری رات اسکی ہے
یہ میری ذات اسکی ہے
اسے لگتا ہے شاید زندگی کے تلخ ہونٹوں پر رکھا یہ جام اسکا ہے
سبھی خوشیاں،بکھرتے رنگوں کا نظام اسکا ہے
متاع جاں اسی کی ہے،دل نیلام اسکا ہے
اس لگتا شاید کہ ہمارا نام اسکا ہے
اسے اکثر ہی لگتا ہے کہ جو کچھ اسکو لگتا ہے وہی سچ ہے
مگر افسوس کہ اس بار کچھ ترتیب الٹی ہے
میرے شام و سحر پہ اب کوئ پہرا نہیں اسکا
ہزاروں عکس ہیں لیکن کوئ چہرا نہیں اسکا
میں رنگ و نور کی بارش میں اکثر بھیگ جاتی ہوں
بدلتے موسموں کا تاج پہنے گنگناتی ہوں
میں دیکھو مسکراتی ہوں
خلش ہے تو فقط اتنی
چھبن ہے تو صرف یہ ہے
میں اپنے نرم لہجے کی حلاوٹ بھول بیٹھی ہوں
میں نفرت کرتے کرتے اب محبت بھول بیٹھی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






