سینے کی تپش نکلے ذرا آنکھوں کےگھرسے
Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohatسینے کی تپش نکلے ذرا آنکھوں کےگھرسے
بارش کی طرح ہم پہ کوئی ٹوٹ کے برسے
شعلہ اگلتے دن کا لیں احسان کس لیے
چاہت کی زمیں پیار کے دو بول کو ترسے
نفرت کی آندھیوں نے کیا دشت کو صحرا
دیکھو کٹے پڑے ہیں شجر کسطرح جڑ سے
رشتوں کی نارسائی کا شکوہ بہت مگر
ہم تو چپ ہیں کسی طوفان کے ڈر سے
بارش سے بجھ سکے گی کہاں میری تشنگی
کوئی نہیں جو دیکھے مجھے تیری نظر سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






