اسے ملنے کی جلدی ہوگئی تھی
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiاسے ملنے کی جلدی ہوگئی تھی
وہ آتے ہوئے زخمی ہو گئی تھی
وہ میرے ساتھ کچھ عرصہ رہی تھی
وہ پگلی میرے جیسی ہو گئی تھی
مرے وہ بال نوچے جا رہی تھی
محبت میں وہ آندھی ہوگئی تھی
صرف اک گھونٹ ہی اس نے پیا تھا
مری چائے تو میٹھی ہو گئی تھی
کہ مدت بعد جب دیکھا تھا اس کو
بہت پہلے سے موٹی ہو گئی تھی
سمندر ریت کھائے جا رہا تھا
زمیں بنجر تو میری ہوگئی تھی
جدائی کا مجھے غم کھا رہا تھا
کہیں پر اس کی منگنی ہوگئی تھی
جسے چاہا کسی کی ہو گئی تھی
مری تقدیر الٹی ہو گئی تھی
خوشی سے ناچنے میں لگ گیا تھا
مری جب بات پکی ہوگئی تھی
مرا محبوب کھینچے جا رہا تھا
مر ی تو عمر لمبی ہو گئی تھی
مرا غربت نے ایسا حال کیا تھا
مری ایسی کی تیسی ہو گئی تھی
جنوں تھا عشق کرنے کا اسےتو
مری چاہت میں بوڑھی ہوگئی تھی
وہ ہنس کر بات مجھ سے کر رہی تھی
میں نے سوچا کہ پگلی ہو گئی تھی
میں اس کے پاؤں چومے جا رہا تھا
انا میری تو جھوٹی ہو گئی تھی
خریدے جسم اب تو جا رہے تھے
رفاقت اب تو سستی ہو گئی تھی
نہیں کھولا گیا تالا کسی سے
کہیں گم اس کی چابی ہو گئی تھی
تجھے شہزاد کیسے میں بتاؤں
مرے تو ساتھ گندی ہوگئی تھی
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






