اسے کہو میرے آنے کا انتظار کرے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنہ اپنے آپ کو شرمندہ خمار کرے
اسے کہو میرے آنے کا انتظار کرے
میری نظر میں اسی کو حیات کہتے ہیں
جو روٹھ جائے تو عالم کو سوگوار کرے
کسی کی جستجو رکھنا کوئی گناہ نہیں
یہ وہ خطا ہے کہ دل جسکو بار بار کرے
جسے ہو دیکھنے جنت کے نازنیں لمحے
وہ اپنے آپ کو پیش جمال یار کرے
ابھی تو کھویا ہوں میں حسن کی اداؤں میں
غم حیات سے کہنا اب انتظار کرے
جسے ہے ناز اپنے ہاتھ کی لکیروں پر
وہ جان ناز میرے خواب تو شمار کرے
پڑا ہے شمع کے قدموں میں پتنگا جل کر
کہا تھا کس نے حسیں روشنی سے پیار کرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






