چار دن کا جو سلسلہ تھا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillتیرے میرے درمیان ساقی یہ چار دن کا جو سلسلہ تھا
نہیں خبر وہ غبار راہ تھا فریب منزل یا مرحلہ تھا
کسے خبر تھی کہ تیری محفل سے ہم کو جانا پڑے گا اک دن
ابھی جو سوچوں تو ایسے لگتا ہے سارا قصہ ہی خواب سا تھا
نا بازیابی فریب بن کر حسین خوابوں میں ڈھل رہی تھی
پلٹ کے دیکھا تو درمیاں میں ہزار صدیوں کا فاصلہ تھا
یہ تپتے صحرا میں چار سو جو ہیں پھول پھیلے تو کیسی حیرت
کبھی فروغ شب ہجر میں میرا اک آنسو یہاں گرا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






