اظہار-اول

Poet: M.Asghar By: M.Asghar, Birmingham

ہر روز باغ میں آتی تھی وہ
میرے دل کو بہت بھاتی تھی وہ

میں اس پہ مرتا تھا
مگر کچھ کہنے سے ڈرتا تھا

وہ مجھےدیکھتی رہتی تھی
آنکھوں کی زبانی بہت کچھ کہتی تھی

سوچتا تھا کیسے عیاں دل کا راز کروں
کیسےبات کرنے کا آغاز کروں

ایک ٹھنڈی آہ بھر کے
اپنے لہجے کو درست کر کے

اس طرح میں نے ہمت بڑھائی
قدرت کے مناظر کی بات چلائی

بولی یہ سب تو اک بہانہ ہے
لگتا ہے آپ نے حال دل سنانا ہے

میں نے کہا سچ فرمایا آپ نے
اچھا آئینہ دکھایا آپ نے

سوچتا تھا کیسے اپنی محبت کا اظہار کروں
خود کو امتحاں کے لیے تیار کروں

آنکھوں میں تیری صورت سمائی ہوئی ہے
دل میں تیری مورت بنائی ہوئی ہے

تیری الفت کا دم بھرنے لگا ہوں
سچے دل سے تجھے پیار کرنے لگا ہوں

اب اس دل کو سمجھاؤں کیسے
تجھے اپنا بناؤں کیسے

اپنے پیار کا سہارہ دے دو
مجے اپنا دل پیارا دے دو

اسے کبھی نا پامال کروں گا
اپنی جان سے زیادہ اسکا خیال کروں گا

Rate it:
Views: 485
21 Jan, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL