اظہارِ تمنائے دل و جان کریں کیا
Poet: عمیر قریشی By: عمیر قریشی, اسلام آباداظہارِ تمناۓ دل و جان کریں کیا؟
لب چپ ہیں مزید ان کو پریشان کریں کیا؟
باقی ہی رہی ہم میں نہ جب رسم ـ محبت
ممکن ہی نہیں وصل تو پیمان کریں کیا؟
ہوں جھوٹی تمناوں پہ یہ سوچ کے زندہ
اب قدر وفاوں کی یہ نادان کریں کیا؟
مرنا ہی اگر تیرے مقدر میں لکھا ہے
تیار ترے قتل کا میدان کریں کیا؟
اب ہم میں عمیر اور سکت کچھ نہیں باقی
ایسے میں ترے پورے سب ارمان کریں کیا؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






