نجانے کون سی منزل کا میں مسافر ہوں
Poet: عمیر قریشی By: عمیر قریشی, اسلام آبادجو کوئے یار کو جائے وہ رہگزر بھی نہیں
مرے خیال کے پنچھی کے بال و پر بھی نہیں
نجانے کون سی منزل کا میں مسافر ہوں
عجب سفر ہے کہ وہ میرا ہمسفر بھی نہیں
وہ کیا امید ہے جس کی وہ بات کرتا ہے
اگرچہ دستِ مسیحا میں کچھ اثر بھی نہیں
اسی کے نام کی خوشبو بسی ہے لفظوں میں
عزیزِ جاں تو ہے ہرچند معتبر بھی نہیں
عطا ہے رب کی جو انکو بھی رزق دیتا ہے
کہ جن میں شکر نہیں اور خدا کا ڈر بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






