افسوس

Poet: shumaila mumtaz By: shumailamumtaz, Faisalabad

افسوس
اے محمدعلامہ اقبال تیرا نو جوان مد ہو ش ہے
افسو س
اے محمد علامہ اقبال
تیرےقلم سے پیدا ہو نیوالی اس نسل کے
نایاب انسان رہ گئے ہیں
کھو گئے
نجا نے کہاں
خودی مر گئی غیرت لٹ گئی
بیوہ جل گئ بیٹی سر بازار آگئی
انصاف ترازو سے اتاردیا گیا
نشہ عام ہو گیاغیرت کو بے حیائی کھا گئی
افسوس
اے محمد علا مہ اقبال
یہاں مائیں دین نہیں پڑ ھا تیں
فر صت بد یا نتی نے نماز بھی بھلا دی
گناہ گاروں کی چھا تیاں چوڑی ہو گئیں
خود کو وآپس لے آ
یا پھر خود سا کوئ بھیج
کہ جوش زندگی کو ہوش کی ضرورت ہے
پاکستان کے پرچم کو
مضبوتی سے تھامے رکھنے کیلئے
نوجوان ہاتھ چاہیئں
اے کاش
تو لوٹ آئے
ایک بار پھر جگانے کیلئے جھنجوڑنے کیلئے
ضمیروں کو زندہ کرنےکیلئے
اے محمد علا مہ اقبال
تو لوٹ آئے
تو لو ٹ آئے

Rate it:
Views: 534
29 Nov, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL