الجھی باتوں میں
Poet: اجالا By: Ujala, Karachiالجھی ہوئی باتوں میں
تم خود کو الجھاتے ہو
میرے سامنے بھی آتے ہو
اور نظر بھی چراتے ہو
اقرار سے ڈرتے ہو
پر آنکھوں سے اپنی
اظہار بھی کر جاتے ہو
الجھے ہوۓ لفظوں میں
تم مجھے الجھاتے ہو
اپنا من بہلاتے ہو
پھر مجھے بھول جاتے ہو
محبت کی راہوں میں
چلنے سے ڈرتے ہو
میرا ساتھ بھی دیتے ہو
مجھ سے منہ بھی پھیرتے ہو
الجھی ہویٔ باتوں میں
تم خود کو الجھاتے ہو
مجھے نمحبت سکھا کر
تم نبھانا بھول جاتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






