رات کی خاموش سنسناتی ہوائوں سے ڈر لگتا ہے
Poet: Maria Rehmani By: Maria Rehmani, Kharianرات کی خاموش سنسناتی ہوائوں سے ڈر لگتا ہے
تنہا چلوں گی مجھے قافلوں سے ڈر لگتا ہے
ضبط کا بندھن ٹوٹے اور کہیں تم بھی نہ بہ جاؤ
اپنے ہی چھلکتے ہئوے آنسئو ؤں سے ڈر لگتا ہے
اک چاند اکیلا اک میں تنہا ہم دونوں کا ساتھ ہے
جب چاند نہ نکلے تو تنہا رات سے ڈر لگتا ہے
پاگل پن کی حد آخر کو نہ چھو جائوں کہیں
مجھ کو تو خوابوں کی پناہوں سے ڈر لگتا ہے
مل ہی جاتے ہیں تاریک رستوں میں مسافر
مجھ کو تو روشن راہوں سے ڈر لگتا ہے
مجھ کو اطمینان ہے کہ میرے لب نہ ہلیں گے
بس اپنے دل کی صدائوں سے ڈر لگتا ہے
کہیں میرے رب کو برا ہی نہ لگ جائے
تیرا نام لیتی ہوئی سانسوں سے ڈر لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






