اللہ بچائے

Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi

 جو چمن میں نشیمن جلائیں ان بہاروں سے اللہ بچائے
جو نہ مرہم بنیں میرے دل کا، ایسے یاروں سے اللہ بچائے

ہر طرف اب ہیں چھائے اندھیرے، راہ ماروں سے اللہ بچائے
ہیں منافق سبھی یار میرے، مجھ کو یاروں سے اللہ بچائے

ہیں سبھی یہ ہوس کے پجاری، انکی باتوں میں ہے فتنہ کاری
ہے فقیری ہمیں جان سے پیاری، تاجداروں سے اللہ بچائے

ان کو آتے بہت سے ہنر ہیں ، جس طرف وہ ہیں شمس و قمر ہیں
انکی چالوں سے بچنا ہے مشکل، انکے واروں سے اللہ بچائے

ہر قدم جال سا اک بچھا ہے، دل کا آنا بھی آفت بنا ہے
اک مصیبت ہیں، قہر و بلا ہیں ، ان اشاروں سے اللہ بچائے

دیکھنے کی انھیں یہ سزا ہے، چین دل کا سبھی لٹ گیا ہے
اس محبت میں گھاٹا برا ہے، بس خساروں سے اللہ بچائے

ہر گھڑی ہے انھیں بیقراری، رات دن ہے لگی اشکباری
دشمنی اچھی انکی نہ یاری، بادہ خواروں سے اللہ بچائے

گرچہ سر پر مصیبت بنی ہے، پھر بھی غیرت کی چادر تنی ہے
جو ہیں شاہوں کے آگے لگی یہ، ان قطاروں سے اللہ بچائے

انکی نظروں میں ہے کھیل چاہت، انکو بھائی ہے سیر و سیاحت
اشک ہیں بس یہ موتی ہمارے، آبشاروں سے اللہ بچائے

اس جگہ بس ہے غم کے سوا کیا، دہر میں آکے رومی ! ملا کیا ؟
یہ نظارے مبارک انھیں ہی، ان نظاروں سے اللہ بچائے

Rate it:
Views: 689
09 Apr, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL