امکانات سے باہر
Poet: Akmal Naveed By: Muhammad Anwer, Karachiامکانات سے باہر
سورج کی روشنی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے
تم سے ہم آغوش ہونے کے خیال کو
میں نے کبھی بوسیدہ ہونے نہیں دیا
خواب اور خیال
کبھی خواب گاہ سے باہر نہیں نکلے
سورج کی روشنی
جب بھی ستاروں بھرے آنچل میں پناہ لیتی ہے
تو میں اس یقین کو کبھی نہیں جھٹلا سکا
کہ تم نے مجھے چھو کر گہری نیند سے جگا دیا ہے
اس یقین کو اپنے خون کے اندر
انگاروں کی طرح دہکتا ہوا محسوس کیاہے
امکانات سے باہر
محسوس کیا جانے والا
ہم آغوشی کا لمحہ
آج تیز ہوا میں
میرے ساتھ اڑ رہا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






