انتخابِ من

Poet: یاسر فاروق By: Yasir Farooq, Karachi

کھل کے کہہ دو جو بھی کہنا ہے تمھیں
مسترد ہونے کی عادت ہے مجھے

ہائے ظالم نے ذرا سا بھی تکلّف نہ کیا
ہم نے چاھی جو اجازت تو اجازت دے دی

کچھ اہلِ چمن ہی مرے دکھ درد کو سمجھے
یہ باغ مرے سامنے ویران ہوا ہے

میں تو تھا اک بزدل عاشق
اس نے ہجر کی ہمّت کی تھی

ہم اڑے بھی تو قید ہی میں رہے
زندگی بے سلاخ پنجرہ ہے

کوئی یہاں سے مجھے کس طرح نکالے گا
ترے خیال کی جاۓ اماں میں رہتا ہوں

ان اندھیروں میں کوئی تو میرا ہم راہی بنے
جب دکھائی کچھ نہ دے آواز بینائی بنے

ملا وہ کم سخن تو یہ سمجھ آیا
محبّت کی زباں خاموش ہوتی ہے

دل نے ایسے تجھے پکارا ہے
گونج اٹھا وجود سارا ہے

یہ کیا کہ تم نے دونوں کو سمجھ لیا ہے ایک سا
یہ کیا کہ ہجر کچھ نہیں یہ کیا وصال کچھ نہیں

تم چائے کا وعدہ کر دیکھو
میں بھاگ آؤں گا آفس سے

تجھ تک کیسے پہنچوں میں
خود کو وائرل کر لوں میں؟

خدا کرے کہ وقت نے چھپن چھپائ کھیلی ہو
ہٹے جو پردہ ہجر کا تو کھلکھلاتے تم ملو
 

Rate it:
Views: 1118
30 Jun, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL