انتخابِ من
Poet: یاسر فاروق By: Yasir Farooq, Karachiکھل کے کہہ دو جو بھی کہنا ہے تمھیں
مسترد ہونے کی عادت ہے مجھے
ہائے ظالم نے ذرا سا بھی تکلّف نہ کیا
ہم نے چاھی جو اجازت تو اجازت دے دی
کچھ اہلِ چمن ہی مرے دکھ درد کو سمجھے
یہ باغ مرے سامنے ویران ہوا ہے
میں تو تھا اک بزدل عاشق
اس نے ہجر کی ہمّت کی تھی
ہم اڑے بھی تو قید ہی میں رہے
زندگی بے سلاخ پنجرہ ہے
کوئی یہاں سے مجھے کس طرح نکالے گا
ترے خیال کی جاۓ اماں میں رہتا ہوں
ان اندھیروں میں کوئی تو میرا ہم راہی بنے
جب دکھائی کچھ نہ دے آواز بینائی بنے
ملا وہ کم سخن تو یہ سمجھ آیا
محبّت کی زباں خاموش ہوتی ہے
دل نے ایسے تجھے پکارا ہے
گونج اٹھا وجود سارا ہے
یہ کیا کہ تم نے دونوں کو سمجھ لیا ہے ایک سا
یہ کیا کہ ہجر کچھ نہیں یہ کیا وصال کچھ نہیں
تم چائے کا وعدہ کر دیکھو
میں بھاگ آؤں گا آفس سے
تجھ تک کیسے پہنچوں میں
خود کو وائرل کر لوں میں؟
خدا کرے کہ وقت نے چھپن چھپائ کھیلی ہو
ہٹے جو پردہ ہجر کا تو کھلکھلاتے تم ملو
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






