انتہا

Poet: muhammad faizan munghiz By: muhammad faizan munghiz, jhelum

مردود ٹھہرائے جاتے ہیں
گلیوں سے بھگائے جاتے ہیں
جب عشق انہیں تڑپاتا ہے
تب فتوے لگائے جاتے ہیں
محفل میں گھنٹوں پھر پھر کے
جب پردے اٹھائے جاتے ہیں۔
اپنی ہی خبر نہ ہوتی ہے
وہ ہوش اڑائے جاتے ہیں۔
جو داغ ختم ہوں مشکل سے
وہ داغ لگائے جاتے ہیں
کبھی پہروں رلایا اور کبھی
سارے جگ میں ہنسائے جاتے ہیں۔
وہ وار کریں ان تیروں سے
جو ہم پہنچائے جاتے ہیں
ابھی ایک گرا اور دوسرا بھی
ہم سب ہی اٹھائے جاتے ہیں
اک عشق ہوا وہ جرم رہا
نظروں سے گرائے جاتے ہیں
رونق بھی برابر بڑھتی رہی
مہمان جو آئے جاتے ہیں۔
اس دنیا کے دھوکے میں صرف
حیلے ہی بنائے جاتے ہیں
جو شوق سے گلی میں آتے ہیں
اب خوں میں نہائے جاتے ہیں
سب خواب ہی جھوٹے ہوتے ہیں
کیا خواب دکھائے جاتے ہیں
وہ لوگ اترتے ہیں جی سے
جو دل میں بسائے جاتے ہیں
جب خوشی نہیں ان آنکھوں میں
کیوں رستے سجائے جاتے ہیں
بس فرق کہ وہ تو جھوٹے پر
ہم وعدے نبھائے جاتے ہیں
جن رستوں سے اترے گا دل میں
وہ رستے بنائے جاتے ہیں
وہ پھر سے جیتے ہیں کیونکر
ہم پھر سے ہرائے جاتے ہیں
اب ختم ہوا ہے افسانہ
اور ہم بھی جائے جاتے ہیں

Rate it:
Views: 502
07 Oct, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL