اندھیری شام
Poet: پلک محروم By: PALAK MAHROOM, Gopalganjﺗﺮﯼ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻠﮯ ﺷﺎﻡ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﺗﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﻐﻮﺭ ﻧﮩﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﻟﯿﮑﮯﺗﺮﯼ ﮨﯽ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﺳﮯﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ
ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﻨﻮﺍﺭﺍ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﮨﻮﺑﮩﻮ ﺁﺝ ﺑﻬﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ
ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﭘﺮﺩﯾﺪ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﮈﻫﻠﺘﯽ ﮈﻫﻠﺘﯽ ﮨﻮﺉ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ، ﻧﮑﻠﮯ ﺟﮕﻨﻮ
ﻭﯾﺴﮯﻧﮑﻠﮯﺗﻬﮯﺟﯿﺴﮯ ﻧﮑﻠﺘﺎ، ﺗﺎﺭﺍﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﻭﯾﺮﺍﻧﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ، ﻣﺨﺰﻥ ﺳﮯ ﺑﻬﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ
ﭘﺎﮐﮯ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻟﮕﺎ ﺗﻬﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﺁﺟﺎ ﺁﺟﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﺮ ﺍﮎ ﺁﺵ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ
ﻟﯿﮑﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮ ﭘﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






