کہاں گئے وہ دور

Poet: پلک محروم By: PALAK MAHROOM, gopalganj,india

ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﺗﺎﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ
ﺩﻝ ﮐﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺳﺠﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎﮐﻮﺋﯽ

ﮐﺒﮭﯽ ﺁﮐﮯ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﺗﻠﮯﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺸﯿﻤﻦ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ

ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻠﺘﮯﭼﻠﺘﮯ ﺍﺳﯽ ﺭﮨﮕﺬﺭ ﭘﺮ
ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻨﺴﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎﮐﻮﺋﯽ

ﺧﻔﺎ ﮨﻮﮐﮯ ﺗﺠﮫ ﺳﮯﺟﺪﺍ ﮨﻮﮐﮯ ﭼﻠﻨﺎ
ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮫ ﺳﮯﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻨﺎ

ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﻧﮧ ﮔﻠﺸﻦ ﮨﯽ ﺑﮭﺎﺋﮯ ﻧﮧ ﮐﻠﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﮭﻠﻨﺎ

ﻭﮦ ﺑﺴﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻣّﯿﺪ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ
ﻭﮦ ﺑﺴﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﻝ ﮐﺎ ﮐﺎﺷﺎﻧﮧ

ﻭﮦ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ
ﻭﮦ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﺯﻣﺎﻧﮧ

ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﮐﭧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﺎﺩﯾﮟ

ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﻨﮓ
ﺟﻮ ﺗﻮ ﺫﺭﺍ ﮨﻨﺲ ﺩﮮ ﺫﺭﺍ ﻣﺴﮑﺮﺍﺩﮮ

ﮐﮭﻠﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﮐﻠﯿﻮﮞ ﺳﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﮐﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﺯﮎ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ

ﭼﻤﮑﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﻏﺰﺍﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺩﻝ ﻣﻨﺪﺭ ﺗﮭﺎ ﺗﻮﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮﺭﺕ

ﻭﮦ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﻣﻨﺪﺭ ﮨﮯ ﻣﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻣﻮﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﺟﺐ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﮓ ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

Rate it:
Views: 543
12 Oct, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL