انفرادیت کا عذاب

Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachi

مری قسمت کے تارے
کچھ عجب ہی چال چلتے ہیں
لکیریں ہاتھ کی اپنے الگ انداز رکھتی ہیں
نہیں مجھ کو میسر خوش نصیبی ”عام“ ہونے کی
سو اپنے منفرد ہونے کی قیمت میں چکاتا ہوں

وہ روزوشب جو بِن مانگے ہی مل جاتے ہیں اوروں کو
مرے جیون میں وہ اک پَل کی صورت بھی نہیں آئے
دعا مانگو نہ مانگو، سب پہ جو بادل برستے ہیں
نظر اُٹّھی رہی پر مجھ پہ وہ بادل نہیں چھائے

محبت بھی یہی کچھ ہے

طلب اور آرزو کے سامنے اندھے اندھیرے ہیں
ہے پیاسی خواہشوں کے روبہ رو پھیلا ہوا صحرا
انھیں اک روز بہنا ہے یا سوزش بن کے رہنا ہے
حسیں وہ خواب، میری آنکھ میں جن کے بسیرے ہیں

تمنا، خواب، خواہش، آرزو کو زہر ہونا ہے
مجھے یہ زہر پینے دو
مری اک بات بس مانو
مجھے جذبوں میں احساسات ہی میں زندہ رہنے دو

Rate it:
Views: 656
20 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL