انوکھا اندازِ محبت ۔۔۔۔

Poet: Saba Hassan By: saba hassan, Lahore

آرام دہ بسترپہ دھنسی
اُسکے گھر سے زرا دیر پہلے جانے سے پہلے
لتا کا مدھر گیت “ اب تو ھے تم سے۔۔۔۔ ھر خوشی اپنی
سنتے ھوئے
سازوں میں محو
اپنی آواز ملا کر اُسکی آواز کو چھوتے ھوئے
بے خبر ادھر اُدھر سے
اُفففففف ۔۔۔۔۔۔ اچانک ۔۔۔۔۔ میرے فہم میں بلا وجہ
بےوقت ۔۔۔۔ سیل میرا ۔۔۔۔ انکمنگ کال سے تھرکنے لگا
ھمممممم ۔۔۔ کہاں ھو ۔۔۔۔؟
کیا اداء ھے
گویا کھل گئی زلفیں سیاہ
صباء ۔۔۔۔۔۔ اٹھکیلیاں تُم سی
وہ تڑپتا ھوا ھم نفس میرا
موسم کی کہانی بُن رھا تھا ۔۔۔۔
اک روانی بس ۔۔۔۔۔ ایک رُو مین بہہ رھا تھا
تُم زرا سنبھال کر رکھنا ۔۔۔۔۔۔
برستی بوندوں میں پنہاں ۔۔۔۔
اپنے دفتر کی فائلوں میں ۔۔۔۔ میں غرق
آفس کےشیشوں سے گاھے بگاھے بوندوں کو تھرکتا دیکھتا ھوا
اپنی ذات پہ مسلط ۔۔۔۔ تیرا خمار سوچتا ھوا
بھیج رھا ھوں لمس اپنے
تُم مگر ۔۔۔۔ قیدءمحفل سے عاری ھو
تنء تنہا ھو
موسم کو انجوائے کرنا
بند دریچوں سے ۔۔۔۔۔ کیا تکنا
موسم کی دعوت پہ ۔۔۔۔۔ لجّا کیا کرنا
مجاز مثل ھمدم ۔۔۔۔ تیری جان ء نفس بانہیں پھیلائے ھوئے
دلنشیں موسم ۔۔۔۔ پُکارتا ھے تجھے
کھول دو در ۔۔۔۔ و ۔۔۔۔ دریچے
بوندوں میں ۔۔۔۔۔ کھل جاؤ
فضاء میں ھاتھ ھلا دو
بوندوں میں مل جاؤ

Rate it:
Views: 552
12 Jul, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL