انہیں چاہنے کا ہنر سیکھ لیا ہم نے
Poet: Jamil Hashmi By: Jamil Hashmi, Rawalpindiانہیں چاہنے کا ہنر سیکھ لیا ہم نے
خود کو تڑپانے کا ہنر سیکھ لیا ہم نے
رہتے ہیں وہ آنکھوں میں چھائے ہوئے
آنسو بہانے کا ہنر سیکھ لیا ہم نے
سلگ رہے ہیں ارماں دل میں
دل جلانے کا ہنر سیکھ لیا ہم نے
روٹھ جاتے ہیں وہ نہ جانے کیوں
انہیں منانے کا ہنر سیکھ لیا ہم نے
جب سے انہیں دیکھا ہے ہم نے
پیار جتانے کا ہنر سیکھ لیا ہم نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






