تم کو ہر پل سوچتے رہنا اچھا لگتا ہے
Poet: Maria Ghouri By: Maria riaz Ghouri, Haroonabadتم کو ہر پل سوچتے رہنا اچھا لگتا ہے
سوچ سوچ کر کچھ نہ کہنا اچھا لگتا ہے
تنہائی میں تیری باتیں یاد آنے لگتی ہیں
آنسو بن کر آنکھ سے بہنا اچھا لگتا ہے
دنیا جو بھی کر لے تیرا ساتھ نہ چھوڑوں
دنیا کے غم ہنس کے سہنا اچھا لگتا ہے
پھول زمانے بھر کے بھلا میں نے کیا کرنے
میری بانہوں میں تیرا گہنا اچھا لگتا ہے
تیرے قدم سے قدم ملا کر چلتی جاؤں
تیرے ہاتھ میں ہاتھ کا رہنا اچھا لگتا ہے
بات جو سارے جگ سے چھپائی ہے دل نے
تم سے وہ دھیرے سے کہنا اچھا لگتا ہے
تم نے مجھے ہمیشہ حوصلہ ہی دیا ہے
تم کو اپنا ہمدم کہنا اچھا لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






