اور سے جب اور ہو جائیں گے ہم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Romaniaاور سے جب اور ہو جائیں گے ہم
پھر تو زیر ِ غور ہو جائیں گے ہم
کیا خبر تھی اک گواہی کے سبب
سلطنت کے چور ہو جائیں گے ہم
کیا خبر تھی درد جیسی چیز سے
آشنا اس طور ہو جائیں گے ہم
عشق سے وعدہ وفا کرتے ہوئے
ایک دن بے زور ہو جائیں گے ہم
پھر تماشا دیکھنا چاہیں اگر
پھر سہی درگور ہو جائیں گے ہم
تاج وہ سر کا اگر بن جائیں تو
شہ جہاں کا دور ہو جائیں گے ہم
توڑنے سے زخم وشمہ آئیں گے
تیز ایسی ڈور ہو جائیں گے ہم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






