اور واپسی کا بھی اس نے کوئی راستہ نہیں رکھا
Poet: By: Usman Tarar, Hafizabadاس نے شہر میں رہ کر بھی کوئی رابطہ نہیں رکھا
ہمیشہ فاصلے ہی رکھے ہیں کوئی فیصلہ نہیں رکھا
اس کے چہرے سے عیاں ہو رہے تھے میرے نقوش
اس لئے اس نے گھر میں کوئی آئینہ نہیں رکھا
دہلیز پہ قدم رکھتے ہی اشک ٹپک آئے ہیں
حالانکہ میں نے آنکھوں میں کوئی حادثہ نہیں رکھا
لفظوں سے آگ برسائی جب اس نے لکھا ہے
لہجہ بھی کبھی اس نے شائستہ نہیں رکھا
عثمان اترنے بھی نہیں دیتا مجھے دل کی سرحدوں پر
اور واپسی کا بھی اس نے کوئی راستہ نہیں رکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







