میں تیری آنکھ سے فطرت کا ہر نظارہ دیکھوں
Poet: Touseef Ali Khan By: Touseef Ali Khan, Lahoreمیں تیری آنکھ سے فطرت کا ہر نظارہ دیکھوں
جی یہ کرتا ہے کہ جو دیکھا ہے دوبارہ دیکھوں
بے آسرا بے سرو ساماں ہوں اس بھرے جہاں میں
ہوں دن کبھی ایسے بھی کہ میں اپنا سہارا دیکھوں
بیچ بھنور میں نہ ڈوبتا ہوں نہ کنارا دکھتا ہے
گر اک بار یقیں دلا دے پھر میں بھی کنارا دیکھوں
تیرے حسن کو سنگھار کی ضرورت ہی کہاں ہے
پھر بھی جی یہ کرتا ہے تجھے اپنے ہاتھوں سنوارا دیکھوں
تو اپنے دیوانوں کی فہرست سے نہ نکال دے کہیں مجھے
چاند کے پہلوں میں اکثر میں خود کو ستارا دیکھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








