اوہ وی مجبور بیٹھی اے ، میں وی مجبور بیٹھا ہاں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL , Gujranwalaاوہ وی مجبور بیٹھی اے ، میں وی مجبور بیٹھا ہاں
اوہ میتوں دور بیٹھی اے ، میں اوس تو دور بیٹھا ہاں
اے جو عشقے دے راہ پیندے ، جاندے گواچ راہواں وچ
فیر منگیاں موت نہ ملدی ، زہر گھل جاندے ساہواں وچ
اوہ ٹُٹ کے بولدی نہیں ، میں چوڑ و چوڑ بیٹھا ہاں
اوہ وی مجبور بیٹھی اے ، میں وی مجبور بیٹھا ہاں
اوہ گھر وچ قید ہو گئی اے ، پہیاں زنجیراں پیراں وچ
میری کشتی جاندی ڈُبدی ، ہجر دی تیز لہراں وچ
اوہ بُجھ گئی شمع دے وانگ ، میں وی بے نور بیٹھا ہاں
اوہ وی مجبور بیٹھی اے ، میں وی مجبور بیٹھا ہاں
ساڈی اَنی ہی حسرت سی ، اَسیں اِک ہونا چاؤندے ساں
ہاں گل لگ ہسنا چاؤندے ساں ، ہائے گل لگ رونا چاؤندے ساں
مینوں ملیاں سزاواں کیوں ، جی کر کیہ قصور بیٹھا ہاں
اوہ وی مجبور بیٹھی اے ، میں وی مجبور بیٹھا ہاں
ساری ساری رات اے سوچاں ، اوہ اِک پل وی نہ سوندی ہوؤں
جیویں رونداں ہاں میں اُس لیئی ، میرے لیئی اوہ وی روندی ہوؤں
گِلؔ رب نال خاص گل کرنی ، میں کوہِ طور بیٹھا ہاں
اوہ وی مجبور بیٹھی اے ، میں وی مجبور بیٹھا ہاں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






