اُس نے راہ پھیرلی چلتے چلتے

Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithi

اُس نے راہ پھیرلی چلتے چلتے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے

وہ لمحہ تھا تو کیا سرُور تھا، ہر نین بھی وہیں مخمور تھا
سوچا کہ آگے چل کر سوچ لیں گے، اس کا کوئی حال پوچھ لیں گے

وہاں منزل مُڑ گئی ملتے ملتے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے

اُسے زیادہ چخ کی ضد تھی، مجھے اپنے رُخ کی ضد تھی
شاید کوئی نظر کا دھوکا تھا، یا ہوا کا چنچل جھونکا تھا

منظر ہی کھوگئے ہنستے ہنستے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے

زندگی کا یہ کیسا غرور تھا، کہ میرا عشق بھی مجبور تھا
دل کا سارا سکون لے گیا، جو دینا تھا ناموزون دے گیا

تھک گیا حساب گنتے گنتے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے

جو جستجو تھی بے قرار نکلی، یہ امید بھی تو بیزار نکلی
من نے کہا ہمزاد جوڑدو، اس نے کہا آزاد چھوڑ دو

ہم جدا ہوگئے لڑتے لڑتے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے

Rate it:
Views: 475
06 Feb, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL