ہم بڑی دور سے آئے ہیں ذرا غور کرو
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaہم بڑی دور سے آئے ہیں ذرا غور کرو
پیار کے ہم بھی ستائے ہیں ذرا غورکرہ
جو زخم تو دیے ہم کو رلانے کے لئے
اب بھی سینے سے لگائے ہیں ذرا غورکرہ
ظلم کی تیز ہوائوں کے طمانچے سہہ کر
خون کے آنسو بہائے ہیں ذرا غور کرو
برسوں ناکام سی چاہت کےلئے شام و سحر
ہم نے ارمان لٹائے ہیں ذرا غور کرو
آج بھی آس کی شمع کو جلانے کے لئے
ہم نے گُل خواب جلائے ہیں ذرا غور کرو
پیارمیں کانٹے تو کانٹےہیں کوئی بات نہیں
زخم پھولوں سے بھی کھائے ہیں ذرا غور کرو
زلفِ جاناں کے تصور میں زمانے گزرے
آج وہ ہم کو بھلائے ہیں ذرا غور کرو
مدتوں وعدوں نے روکا تھا جدائی میں صنم
پھر سے ہم جام اٹھائے ہیں ذرا غور کرو
جعفری جذبہ غم تو نے جو لفظوں میں لکھا
ہم وہی ڈھونڈ کے لائے ہیں ذرا غور کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






