اُسے دل کی لگے تو جانیں

Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabad

وہ اک بار کہے تو جانیں
نہیں پیار اُسے تو جانیں

وہ کیا جانے درد َ فُرقت
یہ اُس پہ بیتے تو جانیں

ڈر کا عالم، کیا ہوتا ہے
کالی رات ڈسے تو جانیں

وہ آغوش ِ خواب کا رسیا
ڈر ڈر کے اُٹھے تو جانیں

اُسکا بھی کوئی دل توڑے
وہ بھی تڑپے ، تو جانیں

دُوری کےدُکھ سہہ کر بھی
نہ اشک بہے، تو جانیں

اُس کو وفا کا پاس نہیں
یہ وہ بھی مانے، تو جانیں

ویرانوں میں رہنے والا
آ دل میں بسے تو جانیں

اُس کا کوئی مطلب ہوگا
بے لوث ملے تو جانیں

وہ اسیر ِ قفس ِتنہائی
گر باہر نکلے تو جانیں

جان سے پیارہ کہنے والا
اب جاں لےلے تو جانیں

موسم ہو جب پت جھڑکا
پھر پھول کھلے تو جانیں

جس کو کوئی سوچتا ہو
وہ بھی سوچے تو جانیں

رشتہ رضا توڑنے والا
بھول کے دیکھے تو جانیں

اُس کو شوقِ دل لگی تھا
اب دل کی لگے تو جانیں

Rate it:
Views: 641
27 Oct, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL