اُسے دل کی لگے تو جانیں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadوہ اک بار کہے تو جانیں
نہیں پیار اُسے تو جانیں
وہ کیا جانے درد َ فُرقت
یہ اُس پہ بیتے تو جانیں
ڈر کا عالم، کیا ہوتا ہے
کالی رات ڈسے تو جانیں
وہ آغوش ِ خواب کا رسیا
ڈر ڈر کے اُٹھے تو جانیں
اُسکا بھی کوئی دل توڑے
وہ بھی تڑپے ، تو جانیں
دُوری کےدُکھ سہہ کر بھی
نہ اشک بہے، تو جانیں
اُس کو وفا کا پاس نہیں
یہ وہ بھی مانے، تو جانیں
ویرانوں میں رہنے والا
آ دل میں بسے تو جانیں
اُس کا کوئی مطلب ہوگا
بے لوث ملے تو جانیں
وہ اسیر ِ قفس ِتنہائی
گر باہر نکلے تو جانیں
جان سے پیارہ کہنے والا
اب جاں لےلے تو جانیں
موسم ہو جب پت جھڑکا
پھر پھول کھلے تو جانیں
جس کو کوئی سوچتا ہو
وہ بھی سوچے تو جانیں
رشتہ رضا توڑنے والا
بھول کے دیکھے تو جانیں
اُس کو شوقِ دل لگی تھا
اب دل کی لگے تو جانیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






